فهرس الكتاب

الصفحة 4048 من 4341

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

باب: قرآن اور علم کا اٹھ جانا

4048 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَقَالَ: «ذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ، وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا، وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ زِيَادُ إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ، وَالْإِنْجِيلَ لَا يَعْمَلُونَ بِشَيْءٍ مِمَّا فِيهِمَا؟»

حضرت زیاد بن لبید انصاری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے کسی واقعے کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ علم چلے جانے کے وقت ہو گا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! علم کیسے اٹھ جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو پڑھائیں گے؟ قیامت تک (اسی طرح سلسلہ جاری رہے گا۔) نبی ﷺ نے فرمایا: زیاد! تیری ماں تجھے روئے، میں تو تجھے مدینے میں سب سے زیادہ سمجھدار آدمی خیال کرتا تھا۔ کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ لیکن وہ ان میں موجود کسی حکم پر عمل نہیں کرتے۔

1۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نےاسے صحیح قراردیا ہے اور اس کی بابت کا فی تفصیل سے بحث کی ہے جس سےمعلوم ہوتا ہے کہ تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الامام احمد:29/17/18/والمشكاة للالباني، رقم:245 ، 277)

2۔قرآن کا علم صرف الفاظ پڑھنے کا نام نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھانے کا نام ہے۔

3۔صحابہ کرام علم کا لفظ صرف قرآن وحدیث کے لیے بولتے تھے۔باقی علوم کی حیثیت فنون کی ہےجن کا مقصد مادی ضروریات کو پورا کرنا یا مادی آسائشیں حاصل کرنا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت