4047 حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَفِيضَ الْمَالُ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ» ، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْقَتْلُ، الْقَتْلُ، الْقَتْلُ» ثَلَاثًا
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ مال بہت زیادہ ہوجائے گا، اور فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج بہت ہوگا۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہرج سےکیا مراد ہے؟ آپ نے تین بار فرمایا: قتل قتل قتل۔
1۔مال کی کثرت امن وسکون کا باعث نہیں جب کہ ایمان وتقوی نہ ہو۔
2۔فتنوں سے مراد مختلف قسم کے تعصبات بھی ہوسکتے ہیں جو قتل وغارت کا باعث بنتے ہیں اور ایسی چیزیں بھی جو ایمان کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔خصوصًا جب کہ لوگ دین کے علم سے بھی محروم ہوں۔