2646 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ قَتَلَ ابْنَهُ فَأَخَذَ مِنْهُ عُمَرُ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً فَقَالَ ابْنُ أَخِي الْمَقْتُولِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ
عمرو بن شعیب ؓ سے روایت ہے کہ بنو مدلج قبیلے کے ایک آدمی ابو قتادہ نے اپنے بیٹے کو قتل کر دیا۔ عمر ؓ نے اس سے سو اونٹنیاں وصول کر لیں۔ تیس حقے ( تین سالہ اونٹنیاں) تیس جذعے ( چار سالہ اونٹنیاں) اور چالیس حاملہ اونٹنیاں۔ پھر فرمایا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ ارشاد سنا ہے: ''قاتل کے لیے کوئی میراث نہیں ہے۔
قاتل کو وراثت کے حصے سے محروم کرنے میں یہ حکمت ہے کہ بہت دفعہ قتل کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ قاتل مقتول کی وراثت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس قانون کی وجہ سے قاتل یہ سوچئے پر مجبور ہوگا کہ قتل کی صورت میں ترکہ تو ملے گا نہیں، اس کے علاوہ سزائے موت کا خطرہ موجود ہے۔اگر سزائےموت نہ بھی ملی تو دیت کی ادائیگی لازم ہوگی۔ اس طرح مزید دولت ملنے کے بجائے پہلی دولت بھی ہاتھ سے جائے گی۔ یہ سوچ کروہ قتل سے پرہیز کرےگا۔