فهرس الكتاب

الصفحة 2647 من 4341

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل

باب: عورت کی دیت اس کے عصبہ کے ذمے ہے اور اس کا ترکہ اس کی اولاد کے لیے ہے

2647 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعْقِلَ الْمَرْأَةَ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا وَلَا يَرِثُوا مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا فَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ عورت کی دیت اس کے عصبہ رشتے دار ادا کریں گے ، وہ جو بھی ہوں۔ اور انہیں دیت میں سے ترکے کے طور پر کچھ نہیں ملے گا مگر وہی جو اس کے ( اصحاب الفروض) وارثوں سے بچ جائے۔ اور اگر عورت قتل ہو جائے تو اس کی دیت اس کے وارثوں کے درمیان ( ترکے کے طور پر) تقسیم ہوگی ۔ وہی عورت کے قاتل کو قتل کر سکتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت