2124 حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا نَذْرَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ»
حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گناہ کے کام کی کوئی نذر نہیں اور جس چیز کا انسان مالک نہیں، اس کی کوئی نذر نہیں۔
1۔ نذر اللہ کو راضی کرنے کے لیے مانی جاتی ہے اس لیے اگر کوئی شخص ایسی نذر مان لے جو گناہ کا کام ہے تو وہ نذر کالعدم ہے اسے پورا کرنا جائز نہیں ، مثلا: کوئی نذر مانے کہ میں اپنے فلاں بیٹے کو دوسرے بیٹوں سے زیادہ دوں گا ، یا ایسے کام کی نذر مان لے جو شرعی طور پر ثواب کا کام نہیں مثلا: یہ نذر کہ میں دھوپ میں کھڑا رہوں گا تو اسے چاہیے کہ وہ نذر پوری نہ کرے اس کے بدلے میں کفارہ دے دے ۔
2۔ جس چیز کا مالک نہیں ، مثلا: کسی دوسرے شخص کا جانور ذبح کرنے کی نذر مان لے تو یہ درست نہیں ۔ ہاں اگر یہ خیال ہو کہ میں یہ جانور خرید لوں گا اور امید ہو کہ وہ بیچ دے گا تو خرید کر ذبح کر دے۔