فهرس الكتاب

الصفحة 2123 من 4341

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل

باب: نذر ماننے کی ممانعت کا بیان

2123 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ النَّذْرَ لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ بِشَيْءٍ إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ، وَلَكِنْ يَغْلِبُهُ الْقَدَرُ مَا قُدِّرَ لَهُ، فَيُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ فَيُيَسَّرُ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُيَسَّرُ عَلَيْهِ مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ: أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نذر آدم کے بیٹے کو اس کے سوا کچھ نہیں دلا سکتی جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے۔ تقدیر نذر پر غالب آ جاتی ہے، جو اس کی قسمت میں ہے وہ ہو جائے گا۔ لیییکن نذر کے ذریعے سے بخیل سے (کچھ نہ کچھ) نکلوایا جاتا ہے۔ اس طرح اس پر وہ کام (غریب کی مدد کرنا) آسان ہو جاتا ہے جو پہلے آسان نہیں تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا (تجھے دنیا میں بھی دوں گا۔ )

1۔ سخی آدمی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہتا ہے ۔ اسے نذر ماننے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔

2۔ مشروط نذر ماننا بخیلوں کا کام ہے ۔ نذر ماننے والا کہتا ہے: اگر میرا فلاں کام ہو گیا یا فلاں مصیبت ٹل گئی تو اتنی رقم صدقہ کروں گا ، گویا وہ کہہ رہا ہے کہ اگر میرا کام نہ ہوا تو یہ صدقہ نہیں کروں گا ۔ اس لحاظ سے نذر مکروہ ہے ۔

3۔ غیر مشروط نذر یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ سے وعدہ کرے کہ فلاں نیکی کا کام کروں گا ۔ یہ ثواب کا کام ہے ۔

4۔ نذر ایک عبادت ہے اس لیے نذر خواہ مخواہ مشروط ہو یا غیر مشروط صرف اللہ ہی کے لیے ناننی چاہیے ۔ کسی ولی ، مزرایا بت وغیرہ کے لیے نذر ماننا اس کی عبادت ہے جو شرک ہے ۔

5۔ اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے اور مشکلات دور ہوتی ہیں ۔

6۔ ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے لیکن دعا ، نذر اور دیگر عبادتوں کے ذریعے سے ہم اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں اسی سے امید وابستہ کرتے ہیں کہ اپنی رحمت سے ہماری حاجتیں پوری کرے اور مشکلات دور فرمائے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت