فهرس الكتاب

الصفحة 2832 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب:(جنگ میں )مشرکوں سے مدد لینا

2832 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ نِيَارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ قَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَوْ زَيْدٍ

حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہےرسول اللہﷺ نے فرمایا: ہم مشرک سے مدد نہیں لیتے۔

(امام ابن ماجہ کے استاذ) علی بن محمد نے اپنی حدیث میں راوی کےبارے میں تردد کا اظہار کیا ہے کہ وہ عبداللہ بن یزید ہے یا عبداللہ بن زید ہے۔

1۔مسلمان اپنے عقیدے کے دفاع کے لیے جہاد کرتا ہے۔مسلمانوں کے ملک کی زمین کا دفاع بھی اسی لیے اہم ہے کہ یہ دین کے دفاع کا ایک حصہ ہے۔مشرک چونکہ اس عقیدے کو تسلیم نہیں کرتا اس لیے وہ خلوص کے ساتھ اس کے دفاع کے لیے جنگ نہیں کرسکتا۔

2۔غیر مسلم یا تو مسلمانوں کے کھلے دشمن ہوتے ہیں یا مسلمانوں کی حفاظت میں ہوتے ہیں۔پہلی قسم کا مشرک (حربی) اسلامی فوج میں شامل نہیں ہوسکتا کیونکہ اسلامی فوج اس کے خلاف لڑتی ہے۔دوسری قسم کا مشرک (ذمی) مسلمانوں کی حفاظت میں ہوتا ہے۔اور جس کی حفاظت مسلمان کرتے ہیں اس سے یہ مطالبہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مسلمانوں کی حفاظت اور دفاع کرے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت