فهرس الكتاب

الصفحة 584 من 4341

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل

باب: اس قول کی دلیل کہ جنبی کو نماز والا وضو کیے بغیر نہیں سونا چاہیے

584 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ

سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کو جب نہانے کی حاجت ہوتی اور آپ (نہائے بغیر) سونا چاہتے تو نماز والا وضو کر لیتے تھے۔

یہ حدیث گزشتہ باب کی احادیث کی نسبت زیادہ قوی ہے''تاہم وہ روایات بھی صحیح ہیں''اس لیے ان میں تطبیق اس طرح ہوگی کہ جن میں وضو کرنے کا ذکر ہے''اس کو استحباب پر محمول کیا جائےگا''اور جن میں وضو کیے بغیر سو جانے کا ذکر ہے''اس سے مراد جواز ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت