فهرس الكتاب

الصفحة 513 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: حدث کے بغیر وضو کرنا ضروری نہیں

513 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ لَا حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا

جناب عباد بن تمیم ؓ اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن یزید بن عاصم ؓ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی نماز میں کچھ محسوس کرے ( اسے شک پڑے کہ ہوا خارچ ہوئی ہے تو کیا کرے؟) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں ( وضو کرنے نہ جائے) حتی کہ بو محسوس کرے یا آواز سنے۔''

1۔ہوا خارج ہونے سے پہلے وضو ٹوٹ جاتا ہے خواہ آواز آئے یا نہ آئے۔

2۔محض شک سے وضو نہیں ٹوٹتاکیونکہ پیشاب پاخانہ وغیرہ سے وضو نہیں ٹوٹتا کیونکہ پیشاب پاخانہ وغیرہ سے وضو ٹوٹنا صحیح دلائل سے ثابت ہے۔یہاں صرف یہ مسئلہ بتایا گیا ہے کہ وضو ٹوٹنے کا یقین یا ظن غالب ہونا چاہیے محض وہم اور شک کی بنیاد پر وضو کے لیے نہیں جانا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت