فهرس الكتاب

الصفحة 1823 من 4341

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل

باب: شہد کی زکاۃ

1823 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَعِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي نَحْلًا، قَالَ: «أَدِّ الْعُشْرَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْمِهَا لِي، فَحَمَاهَا لِي

حضرت ابوسیارہ متعی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دسواں حصہ (زکاۃ) ادا کرو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انہیں میرے لیے خاص کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے وہ میرے لیے خاص کر دیں۔

1۔صحابی کے پاس شہد کی مکھیاں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بعض درختوں پر مکھیاں شہد کا چھتہ لگایا کرتی ہیں ۔

خاص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان چھتوں کو ان کی ملکیت قرار دے دیا تاکہ کوئی شخص ان کی اجازت کے بغیر ان درختوں کے چھتوں سے شہد نہ نکالے ۔

جو درخت کسی کی ملکیت نہ ہوں ، ان پر لگے ہوئے چھتے سے جو شخص چاہے شہد نکال سکتا ہے ۔

شہد کی زکاۃ دسواں حصہ ہے ۔ اگر دس مشکیزے شہد ہو تو ایک مشکیزہ زکاۃ ادا کرے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت