2692 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنْبَأَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ فِيهِ الْقِصَاصُ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے سامنے جب بھی کوئی ایسا مقدمہ پیش کیا گیا جس میں قصاص ہوتا تو رسول اللہ ﷺ نے معاف کرنے کا حکم دیا۔
1۔قصاص لینا جائز ہے لیکن معاف کردینا افضل ہے۔2۔ حاکم فریقین کو معافی یاصلح کا مشورہ دے سکتا ہے لیکن متعلقہ فریق کے لیے ضروری نہیں کہ اس مشورے کو تسلیم کرے۔