2372 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ
حضرت خریم (بن اخرم بن شداد بن عمرو) بن فاتک اسدی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی ، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا: جھوٹی گواہی کو شرک کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ آپ نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی، پھر یہ آیت پڑھی: (وَٱجْتَنِبُوا۟ قَوْلَ ٱلزُّورِ حُنَفَآءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِۦ) اور جھوٹی بات سے پرہیزکرو۔ اللہ کی توحید کو مانتے ہوئے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے۔
مذکورہ روایت سندًاضعیف ہےلیکن یہ بات صحیح ہے کہ جھوٹی گواہی کبیرہ گناہ ہےکیونکہ اس کےبارے میں متعدد صحیح احادیث موجود ہیں ۔ نبئ اکرم ﷺنےجن تین گناہوں کوکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ قرار دیاہے وہ اللہ کےساتھ شرک کرنا'والدین کی نافرمانی اورجھوٹی گواہی ہیں ۔ دیکھیے (صحیح البخاری الشھادات باب ماقبل فی شھادۃ الزور'حدیث:2653'2654)