فهرس الكتاب

الصفحة 2015 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: حرام کام سے حلال چیز حرام نہیں ہو جاتی

2015 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا۔

یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے، تاہم دیگر دلائل اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک صحیح السند اثر کی رو سے ، جس میں آتا ہے کہ (ان وطء الحرام لا یحرم) (ارواءالغلیل6؍287) '' زناکاری، کسی حلال کو حرام نہیں کرےگی۔'' اکثر اہل علم کی رائے ہے کہ اگر کوئی مرد کسی عورت سے بدکاری کا ارتکاب کرے تو اس کی وجہ سے اس عورت سے نکاح کرنا حرام نہیں ہوجائے گا، نہ اس ناجائز حرکت کی وجہ سے اس عورت کی ماں اس مردپر ساس کی طرح حرام ہوجائے گی، نہ اس عورت کی بیٹی سوتیلی بیٹی کی طرح حرام ہوجائے گی۔ اسی طرح مرد اگر اپنی ساس یا سوتیلی بیٹی سے منہ کالا کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی کیونکہ یہ تعلق شرعًا ''میاں بیوی'' کا تعلق نہیں اور مذکورہ بالا احکام کا تعلق'' بیوی'' سے ہے۔ بدکاری کا گناہ اور اس پر سزا کا مستحق ہونا دوسری چیز ہے اور حرام ہونا دوسری چیز ہے۔ (تفصیل کےلیے دیکھئے: تفسیر احسن البیان ، از حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ ، سورۃ نساء:آیت:32)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت