فهرس الكتاب

الصفحة 1659 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: عید کے دو مہینے

1659 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ

ابو بکرہ ( نفیع بن حارث ثقفی ) ؓ سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا: ''عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے، یعنی رمضان اور ذوالحجہ۔''

اس فرمان نبوی ﷺ کی وضاحت مختلف انداز سے کی گئی ہے۔ایک قول کے مطابق حدیث کامطلب یہ ہے کہ مہینے انتیس کے بھی ہوں تو عظمت وثواب کے لہاظ سے بڑے ہی ہیں۔انھیں چھوٹا نہ سمجھو۔دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے۔کہ ایک سال میں دونوں انتیس کے نہیں ہوتے۔اگر ان میں سے ایک مہینہ انتیس دن کا ہوگا تو دوسرا ضرور تیس کا ہوگا۔یہ مطلب بھی ایک حد تک صحیح ہے۔کیونکہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ پہلا مطلب زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ ر مضان میں روزوں کی عبادت کی جاتی ہے۔اور زوالحجہ میں حج کی عبادت ہوتی ہے۔اور یہ دونوں اسلام کے ارکان میں سے ہیں۔جب کہ اسلام کے دوسرے ارکان کسی خاص مہینے سے تعلق نہیں رکھتے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت