فهرس الكتاب

الصفحة 1482 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : جنازے کے آگے چلنا

1482 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ»

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ''میں نے نبی ﷺ ابو بکر اور عمر ؓ کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔''

(اتباع الجنائز) جنازوں کے پیچھے جانا اس لفظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنازے کے ساتھ جانے والے سبھی افراد کو پیچھے چلنا چاہیے۔لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیچھے جانے کے لفظ سے ساتھ جانا مراد ہے۔اس لئے ساتھ جانے والے جس طرح میت کی چار پائی کے پیچھے چل سکتے ہیں۔اسی طرح آگے بھی چل سکتے ہیں لہذا دایئں یا بایئں چلنا تو بالا ولیٰ جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت