فهرس الكتاب

الصفحة 2408 من 4341

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل

باب: جو شخص قرض لے اور اس کا ارادہ ادا کرنے کا ہو!

2408 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ عَنْ ابْنِ حُذَيْفَةَ هُوَ عِمْرَانُ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ قَالَ كَانَتْ تَدَّانُ دَيْنًا فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَهْلِهَا لَا تَفْعَلِي وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا قَالَتْ بَلَى إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيِّي وَخَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا

حضرت عمران بن حذیفہ ؓ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث ؓا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں۔ ان کے گھر کے کسی فرد نے اس کو نا مناسب سمجھتے ہوئے عرض کیا: آپ ایسا نہ کیا کریں۔ انہوں نے فرمایا: کیوں نہ لوں؟ میں نے اپنے نبی اور اپنے محبوب ﷺ سے یہ فرمان سنا ہے: جو مسلمان قرض لیتا ہے اور اللہ کو اس کے بارے میں یہ علم ہوتا ہے کہ وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض دنیا ہی میں اتار دیتا ہے۔

1۔ ضرورت کے وقت قرض لینا جائزہے'تاہم اجتناب بہترہے۔

2۔ قرض لیتےوقت یہ نیت ہونی چاہیے کہ اسے جلد ازجلد اداکیاجائے گا۔

3۔ ایسی نیت رکھنے والوں کی اللہ تعالی مدد فرماتاہےاوروہ آسانی کےساتھ قرض اداکردیتےہیں بشرطیکہ وہ ادائیگی کےلیے مخلصانہ کوشش کریں اواس میں کوتاہی نہ کریں۔

4۔ اللہ تعالی کے ہاں حسن نیت کی بہت اہمیت ہے

5۔ اگر کوئی شخص قرض اداکرنے سےپہلے فوت ہوگیا تووارثوں کافرض ہےکہ قرض اداکریں'اگر ادائیگی نہ کی گئی توقیامت کونیکیوں کی صورت میں ادائیگی کرنی پڑے گی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت