2409 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اللَّهُ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُ اللَّهُ قَالَ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَقُولُ لِخَازِنِهِ اذْهَبْ فَخُذْ لِي بِدَيْنٍ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَبِيتَ لَيْلَةً إِلَّا وَاللَّهُ مَعِي بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرض لینے والے کے ساتھ ہوتا ہے حتی کہ وہ قرض ادا کر دے، جبکہ (قرض) اس کام کے لیے نہ ہو جو اللہ کو ناپسند ہے۔
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ اپنے خازن سے کہا کرتے تھے: جاؤ! میرے لیے قرض لے آؤ۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سننے کے بعد میں پسند نہیں کرتا کہ میں کوئی رات (اس طرح) گزاروں کہ اللہ میرے ساتھ نہ ہو۔
1۔ادائیگی کی نیت رکھتے ہوئےقرض لینا جائزہے۔
2۔نیت نیک ہوتواللہ تعالی کی مدد حاصل ہوتی ہے ۔
3۔ قرض اچھے کام کےلیے لینا چاہیے ۔شادی اورغمی کی فضول غیر اسلامی رسموں یابسنت اورسالگرہ جیسی کافرانہ تقریبات میں بغیر قرض لیےخرچ کرنابھی گناہ ہے ۔ ان کےلیےقرض لینا تومزید گناہ ہوگا'ایسی رسموں سےمکمل پرہیز کرناچاہیے۔
4۔ سودپرقرض لینا کسی حال میں جائز نہیں ۔