فهرس الكتاب

الصفحة 3500 من 4341

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل

باب: شراب سے علاج کرنے کی ممانعت کا بیان

3500 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أَنْبَأَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا، فَنَشْرَبُ مِنْهَا؟ قَالَ: «لَا» فَرَاجَعْتُهُ، قُلْتُ: إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهِ لِلْمَرِيضِ، قَالَ: «إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِشِفَاءٍ، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ»

حضرت طارق بن سوید حضرمی ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: ، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمارے علاقے میں انگور ہوتے ہیں ، ہم انہیں نچھوڑتے (اور ان کےرس سے شر اب بناتے ) ہیں ، ہم اسے پی لیا کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں '' میں نے دوبارہ سوال کےتے ہوئے عرض کیا: ہم اس (شراب) کے ساتھ بیمار کاعلاج کرتے ہیں ۔ (کیا یہ جائز ہے ؟) ، آپ نے فرمایا: ''وہ شفا نہیں بلکہ وہ تو خود ایک بیماری ہے ۔''

1۔شراب حرام ہے۔2۔نشہ آور کسی بھی چیز کا استعمال حرام ہے۔3۔حرام چیز کو دوا کے طور پر استعمال کرنا بھی جائز نہیں ۔حرام اور نقصان دہ اشیاء سے علاج کی بابت حدیث نمبر 3460 کے فوائد ملاحظہ فرمایئں۔4آجکل انگریزی دوائوں میں الکحل شامل کی جاتی ہے۔تاکہ وہ زیادہ عرصہ تک درست حالت میں رہیں۔مسلمانوں کو چاہیے کہ اس مقصد کے لئے حلال چیز (شہد ۔سرکہ۔یا صاف پانی وغیرہ) استعمال کریں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت