فهرس الكتاب

الصفحة 4160 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: تعمیر اور ویرانی

4160 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي السَّفَرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا فَقَالَ مَا هَذَا فَقُلْتُ خُصٌّ لَنَا وَهَى نَحْنُ نُصْلِحُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ہم لوگ اپنی ایک جھونپڑی کی مرمت کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ''یہ کیا ہے''؟ میں نے کہا: ہماری جھونپڑی کمزور ہو گئی ہے ہم اسے ٹھیک کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ''میرے خیال میں تو معاملہ اس سے جلد واقع ہونے والا ہے''۔

1۔معاملے کی جلدی سے مراد یہ ہے کہ معلوم نہیں موت کب آجائے۔شاید مرمت کیے ہوئے گھر میں رہنا نصیب ہو یا نہ ہو ۔

2۔ نصیحت میں موقع محل کی مناسبت کا خٰال رکھنا چاہیے۔

3۔ سر چھپانے کے لیے مکان کی ضرورت تو ہے لیکن موت کو نہیں بھولنا چاہیے۔ جس طرح دنیا کی ضرورت کے لیے کوشش کرتے ہیں اس سے زیادہ آخرت کے گھر کی فکر ضروری ہے۔

4۔بے جا تکلفات سے ہر ممکن حد تک بچنا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت