فهرس الكتاب

الصفحة 2157 من 4341

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

باب: قرآن پڑھانے کی اجرت وصول کرنا

2157 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْقُرْآنَ وَالْكِتَابَةَ، فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا، فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ، وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ: «إِنْ سَرَّكَ أَنْ تُطَوَّقَ بِهَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا»

حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے اصحاب صفہ (رضی اللہ عنھم) میں سے چند افراد کو قرآن کی اور لکھنے کی تعلیم دی۔ ان میں سے ایک آدمی نے تھفے کے طور پر مجھے ایک کمان دے دی۔ میں نے یہ سوچ کر لے لی کہ یہ کوئی مال تو ہے نہیں، اور میں اللہ کی راہ میں (جہاد کرتے ہوئے) اس سے تیر چلاؤں گا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اگر تجھے یہ بات پسند ہے کہ اس کے بدلے تجھے (جہنم کی) آگ کا طوق پہنایا جائے تو قبول کر لے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت