2025 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ يَقَعُ بِهَا وَلَمْ يُشْهِدْ عَلَى طَلَاقِهَا، وَلَا عَلَى رَجْعَتِهَا، فَقَالَ عِمْرَانُ: «طَلَّقْتَ بِغَيْرِ سُنَّةٍ، وَرَاجَعْتَ بِغَيْرِ سُنَّةٍ، أَشْهِدْ عَلَى طَلَاقِهَا، وَعَلَى رَجْعَتِهَا»
حضرت مطرف بن عبداللہ بن شخیر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمران بن حصین ؓ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور پھر اس سے مباشرت کرتا ہے مگر طلاق دینے یا اس سے رجوع کرنے پر گواہ نہیں بناتا۔ (اس کا کیا حکم ہے؟) حضرت عمران ؓ نے فرمایا: تو نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف ہی رجوع کیا۔ اس کی طلاق پر بھی گواہ مقرر کر اور رجوع پر بھی۔
جس طرح نکاح کےموقع پر گواہوں کا تقرر ہوتا ہے، اسی طرح طلاق اور رجوع بھی گواہوں کی موجودگی میں ہونا چاہیے۔