فهرس الكتاب

الصفحة 1694 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: سحری دیر سے کھانے کا بیان

1694 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، زید بن ثابت ؓ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کھائی پھر اٹھ کر نماز کی طرف چلے۔ (انس ؓ نے فرمایا:) میں نے کہا: ان دونوں کاموں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ زید ؓ نے فرمایا: پچاس آیتوں کی تلاوت جتنا۔

1۔اگر چہ سحری کا کھا نا صبح صادق سے کا فی پہلے بھی کھا یا جا سکتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ را ت کے آخری حصے میں صبح صادق سے تھو ڑی دیر پہلے کھا یا جا ئے 2۔ فجر کی نما ز اول وقت میں ادا کر نا افضل ہے رسول اللہ ﷺ نے سحر ی کے بعد مختصر وقفہ دے کر فجر کی نما ز ادا کی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت