فهرس الكتاب

الصفحة 1695 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: سحری دیر سے کھانے کا بیان

1695 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ تَسَحَّرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ

(قال ابو اسحاق:حدیث حذیفۃ منسوخ لیس بشیئ)

حذیفہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کھائی جب کہ دن نکل آیا تھا لیکن سورج طلوع نہیں ہوتا تھا۔ امام ابو اسحاق نے کہا: حذیفہ ؓ کی حدیث منسوخ ہے اور کچھ بھی نہیں۔

۔ اس سے مراد رات کے بالکل آ خری حصے میں سحری کھا نا ہے جب کہ آد می کو شبہ ہو سکتا ہے کہ صبح صادق طلو ع ہو چکی ہے کیو نکہ یہ کھا نا نما ز فجر سے بہر حا ل پہلے ہی کھا یا گیا ہو گا اور نبی اکرم ﷺ فجر کی نما ز اندھیرے میں ادا کر تے تھے صبح صا دق قریب ہو جا نے کو دن کے نکلنے سے تعبیر کیا گیا ہے اس سے مراد تا خیر میں مبالغہ ہے ورنہ روزے دار کے لئے صبح صادق کے بعد کھا نا پینا با لا اتفاق منع ہے جس کی دلیل قرآ ن مجید کی یہ آ یت مبا رکہ ہے (وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلْخَيْطُ ٱلْأَبْيَضُ مِنَ ٱلْخَيْطِ ٱلْأَسْوَدِ مِنَ ٱلْفَجْرِ) اور تم کھا تے پیتے رہو یہا ں تک صبح کا سفید دھا گا را ت کے سیا ہ دھا گے سے ظا ہر ہو جا ئے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت