فهرس الكتاب

الصفحة 1746 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: روزہ دار کو افطار کرانے کاثواب

1746 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى وَخَالِي يَعْلَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ حَجَّاجٍ كُلُّهُمْ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا

زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے روزے دار کا روزہ افطار کرایا، اسے اس ( روزے داروں ) کے برابر ثواب ملے گا، لیکن ان کے ثواب میں کچھ کمی نہیں ہوگی۔''

1۔روزے دار کا روزہ افطا ر کرا نا ایک عظیم نیکی ہے 2 روزہ افطار کرانے کے لئے حسب تو فیق کو ئی بھی چیز پیش کی جا سکتی ہے پیٹ بھر کھلانا ضروری نہیں اگر کھلائے تو اس کا الگ سے ثوا ب ہو گا 3 افطا ر کرانا نیکی میں تعاون ہے اور نیکی کے ہر کام میں تعا ون اس نیکی میں شر کت ہے خوا بظا ہر معمولی ہو 4 روزہ کھلوانے والے کو ثواب روزہ رکھنے والے کے حصے میں نہیں ملتا اسی طرح کسی نیکی کے کام میں اگر تعاون پر آمادہ ہو تو اس سے تعاون قبول کر نا چا ہیے کیو نکہ اس سے کا م انجام دینے والے کا درجہ کم نہیں ہو جا تا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت