فهرس الكتاب

الصفحة 1747 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: روزہ دار کو افطار کرانے کاثواب

1747 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى اللَّخْمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ

عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن معاذ ؓ کے ہاں روزہ افطار کیا تو فرمایا: ( أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ ) ''تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں اور فرشتے تمہارے لیے رحمت کی دعائیں کریں۔ ''

۔ مہمان کو چا ہیے کہ کھا نا کھا نے کے بعد میزبا ن کو دعا دے اور دعا دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مذکو رہ با لا مسنون الفا ظ کہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت