فهرس الكتاب

الصفحة 305 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: کھڑ ے ہو کر پیشاب کرنا

305 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَهُشَيْمٌ وَوَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ عَلَيْهَا قَائِمًا

سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پہنچے اور وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔

۔پیشاب کرنے کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ بیٹھ کر اس حاجت سے فراغت حاصل کی جائے۔نبی کریمﷺ کی اکثر عادت مبارکہ بیٹھ کر پیشاب کرنے کی تھی۔

2۔اس مقام پر نبی ﷺ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔ممکن ہے اس کا سبب امت کو یہ بتانا ہو کہ یہ بھی جائز ہے تاکہ اگر کسی کو کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو وہ حرج محسوس نہ کرے۔یہ بھی ممکن ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے کوئی ایسی ضرورت محسوس کی ہو،مثلًا: بیٹھ کر پیشاب کرنے کی صورت میں جسم یا کپڑوں پر چھینٹے پڑنے کا اندیشہ محسوس ہوا ہو۔یا کسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے میں مشقت محسوس ہوئی ہو۔واللہ اعلم،تاہم یہ احتیاط ضروری ہے کہ پیشاب کے چھینٹے کپڑے یا جسم پر نہ پڑیں۔

3۔کچھ لوگوں کی کوڑا پھینکنے کی جگہ کا مطلب یہ ہے کہ اس محلے کے لوگ اپنا کوڑا کرکٹ وہاں پھینکا کرتے تھے

4۔نبیﷺ نے پیشاب کے لیے وہ جگہ اس لیے پسند فرمائی کہ وہاں کی دیوار کی اوٹ موجود تھی اس لیے پردے کا اہتمام بہتر طور پر ممکن تھا۔دیکھیے:(صحیح مسلم الطھارۃ باب المسح علی الخفین حدیث:273

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت