فهرس الكتاب

الصفحة 1073 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: جب مسافر کسی شہر میں ٹھہر جائے تو کتنا عرصہ نماز قصر ادا کرے

1073 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَأَلْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ مَاذَا سَمِعْتَ فِي سُكْنَى مَكَّةَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا لِلْمُهَاجِرِ بَعْدَ الصَّدَرِ

سیدنا عبدالرحمن بن حمید زہری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا سائب بن یزید ؓ سے پوچھا: آپ نے مکہ میں ٹھہرنے کے بارے میں کون سی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا علاء بن حضرمی ؓ سے سنا، نبی ﷺ نے فرمایا: ''مہاجر کو ( منیٰ سے) واپس پر ( مکہ میں) تین دن رہنے کی اجازت ہے۔''

فائدہ۔اس سے استنباط کیاگیا ہے۔ کے تین دن سے زیادہ کسی مقام پر ٹھرنا وہاں رہائش کے حکم میں ہے۔مہاجرین کو دوبارہ مکہ میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہ تھی۔تا کہ ان کی ہجرت کا ثواب قائم رہے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں تین دن ٹھرنے کی اجازت دی۔اس کامطلب ہے کہ تین دن ٹھرنا مقیم ہونے کے حکم میں نہیں۔چنانچہ کوئی مسافر کسی مقام پر تین دین ٹھرے تو نماز قصراداکرے۔اور بعض کے نزدیک یہ مدت چاردن ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت