فهرس الكتاب

الصفحة 1074 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: جب مسافر کسی شہر میں ٹھہر جائے تو کتنا عرصہ نماز قصر ادا کرے

1074 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أُنَاسٍ مَعِي قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ

سیدنا عطاء ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: مجھے اور میرے ساتھ چند افراد کو سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ ذوالحجہ کی چار تاریخ کو مکہ تشریف لائے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوالحجہ کو صبح کے وقت مکہ مکرمہ تشریف فرما ہوئے۔اور یہاں سے یوم الترویہ (8زوالحجہ) کو منیٰ کی طرف روانہ ہوئے۔اس میں یہ ارشاد ہے کہ چاردن ٹھرنے کی صورت میں بھی دوگانہ ادا کیاجاسکتا ہے۔الغرض قصر نماز کےلئے دنوں کے تعین میں یہ روایت پہلی روایت سے زیادہ واضح اور فیصلہ کن ہے۔واللہ اعلم تاہم دونوں ہی موقف صحیح ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت