فهرس الكتاب

الصفحة 1075 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: جب مسافر کسی شہر میں ٹھہر جائے تو کتنا عرصہ نماز قصر ادا کرے

1075 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَنَحْنُ إِذَا أَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے انیس دن قیام فرمایا اور دو دو رکعتیں پڑھتے رہے اس لئے ہم بھی انیس دن ٹھہرتے ہیں تو دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں جب اس سے زیادہ ٹھہرتے ہیں تو چار رکعت پڑھتے ہیں۔

یہ فتح مکہ واقعہ ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں انیس دن ٹھرنے کاارادہ کرکے نہیں رہے تھے بلکہ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسافر متردد کی حیثیت سے قیام پزیر تھے۔اور متردد مسافر جو روانہ ہونے کی نیت رکھتا ہو لیکن کسی وجہ سے روانہ نہ ہوسکے۔وہ اگرچہ طویل عرصے تک رکا رہے۔مقیم کے حکم میں نہیں ہوتا اور نماز قصر ادا کرسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت