3513 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ، أَوْ حُمَةٍ»
حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''دم تو صرف نظر سے یا ڈنک مارنے والی چیز (بچھو وغیرہ کے ڈسنے کی وجہ ) سے ہوتا ہے ۔''
1۔سانپ۔بھڑ۔بچھو۔وغیرہ کاٹ لے تو دم کروالینا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے سورۃ فاتحہ کادم زیادہ بہتر ہے۔2۔حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ کسی اور بیمار کے لئے دم کروانا جائز نہیں۔ بلکہ ان دو چیزوں کے لئے دم کرنا زیادہ آسان اور زوداثر علاج ہے۔3۔دوسری بیماریوں کے لئے دم جائز ہونے کی دلیل باب:36 اور 37 کی احادیث ہیں۔