فهرس الكتاب

الصفحة 3520 من 4341

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل

باب: نبیﷺ نے جو دم کیا اور جو دم آپؐ کو کیا گیا

3520 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ فَدَعَا لَهُ قَالَ: «أَذْهِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ، إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا»

حضرت عائشہ ؓاسے روایت ہے ، کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی بیمار کے پاس تشریف لے جاتے او راس کے لیے دعا کرتے تو فرماتے ، «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ))

بیماری دور کردے ،اے لوگوں کےرب ! اور شفا عطا فر ۔ تو ہی شفا دینے والاہے ۔تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ،ایسی شفا دےکہ بیماری کو بالکل نہ رہنے دے ۔''

1۔مریض کی عیادت سنت نبوی ﷺ ہے۔2۔عیادت کے وقت مریض کو تسلی دینے کے ساتھ ساتھ اس کے لئے دعا کرنا بھی مسنون ہے۔2۔شفا صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔لہذا دعا بھی اسی سے کرنی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت