فهرس الكتاب

الصفحة 498 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: دودھ پی کر کلی کرنا

498 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَضْمِضُوا مِنْ اللَّبَنِ فَإِنَّ لَهُ دَسَمًا

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ''دودھ پی کر کلی کر لیا کرو کیوں کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔''

1۔کلی کے حکم کی جو وجہ بیان کی گئی ہےاس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مقصد منہ کی صفائی ہے اور اس کا وضو کے رہنے یا ٹوٹنے سے تعلق نہیں ۔

2۔اسلام میں صفائی کی بہت اہمیت ہے اس لیے وضو میں بھی کلی اور مسواک کو مشروع کیا گیا ہے۔کھانے پینے کے بعد منہ میں چکناہٹ کا باقی رہناحفظان صحت کے اصول کے منافی ہے اس لیے دودھ پی کر یا کوئی مرغن غذا کھا کرمنہ کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت