فهرس الكتاب

الصفحة 1842 من 4341

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل

باب: صدقہ کی فضیلت

1842 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً، فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، وَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلُوَّهُ، أَوْ فَصِيلَهُ»

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوکوئی پاک چیز کا صدقہ کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ پاک (حلال اور عمدہ) چیز ہی قبول کرتا ہے، تو رحمان اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے، اگرچہ ایک کھجور ہی ہو۔ وہ رحمٰن کے ہاتھ میں بڑھتی جاتی ہے حتی کہ پہاڑ سے بڑی ہو جاتی ہے۔ وہ اس چیز کو اس (صدقہ دینے والے) کے لیے اس طرح پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے کو، یا اونٹ یا گائے کے بچے کو پالتا ہے۔

1۔صدقہ ایک عظیم نیکی ہے ۔

صدقہ وہی قبول ہوتا ہے جو حلال کی کمائی سے کیا گیا ہو اور وہ اچھی چیز ہو جس سے صدقہ وصول کرنے والا بہتر فائدہ حاصل کر سکے۔ اللہ کی نظر میں مقدار سے زیادہ خلوص کی اہمیت ہے ۔ خلوص سے دی گئی تھوڑی سی چیز بھی بہت زیادہ ثواب کا باعث ہو جاتی ہے قرآن مجید اور صحیح احادث میں اللہ تعالیٰ کے لیے ہاتھ ، قدم اور چہرہ جیسے جو الفاظ وارد ہیں ان پر ایمان رکھنا چاہیے لیکن ان کو مخلوق کی صفات سے تشبیہ دینا درست نہیں ، ان کی کیفیت سے اللہ تعالیٰ ہی با خبر ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت