1206 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً أَظُنُّ أَنَّهَا الظُّهْرُ فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّانِيَةِ قَامَ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
سیدنا ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک ؓ ) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک نماز پڑھائی وہ غالبًا عصر کی نماز تھی۔ دوسری رکعت پڑھ کر نبی ﷺ (تشہد کے لیے) بیٹھنے سے پہلے ہی (بھول کر) کھڑے ہو گئے، پھر جب سلام سے پہلے کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے دو سجدے کر لیے۔
1۔درمیانی تشہد بھولے سے رہ جائے تو آخر میں سجدہ سہو کرلینا چاہیے۔2۔سجدہ سہو سلام سے پہلے بھی جائز ہے۔اور سلام کے بعد بھی دیکھئے۔ (حدیث 1213) 3۔سہو کے دو سجدے ہوتے ہیں۔