فهرس الكتاب

الصفحة 153 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: حضرت خباب کے فضائل

153 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، قَالَ: جَاءَ خَبَّابٌ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: «ادْنُ، فَمَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْمَجْلِسِ مِنْكَ إِلَّا عَمَّارٌ، فَجَعَلَ خَبَّابٌ يُرِيهِ آثَارًا بِظَهْرِهِ مِمَّا عَذَّبَهُ الْمُشْرِكُونَ»

حضرت ابو لیلیٰ کندی ؓ سے روایت ہے کہ حضرت خباب ؓ عمر ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: قریب آکر بیٹھو، اس جگہ بیٹھنے کا حق آپ سے زیادہ کسی کو نہیں، سوائے عمر ؓ کے۔ پھر حضرت خباب ؓ عمر ؓ کو مشرکین کی اذیتوں کے نتیجے میں کمر پر پڑجانے والے نشانات دکھانے لگے۔

(1) یہ روایت بعض ائمہ کے نزدیک صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام آپس میں ایک دوسرے سے محبت اور ہمدردی کرنے والے تھے۔ (2) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو اپنے قریب بٹھایا، اس سے ان کی عزت افزائی بھی مقصود تھی اور اظہار محبت بھی۔ (3) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نظر میں حضرت عمار، حضرت خباب اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جنہوں نے اللہ کی راہ میں تکلیفیں برداشت کی تھیں، بہت زیادہ قابل قدر اور قابل احترام تھے۔ (4) جو لوگ دین کے لیے محنت کریں اور تکلیفیں برداشت کرین، مسلمان حکومتوں یا جماعتوں کے قائدین کو چاہیے کہ ان کو کما حقہ مقام اور عزت و شرف سے نوازیں۔ (5) حضرت خباب رضی اللہ عنہ کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخموں کے نشانات دکھانا ریاکاری میں شامل نہیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان تمام شدائد کے عینی گواہ تھے جو سابق الاسلام صحابہ کرام کو مشرکین کے ہاتھوں برداشت کرنے پڑے تھے بلکہ (بطور تحدیث نعمت) مقصد اللہ کے احسانات کو یاد کرنا تھا کہ اس نے ان ایام میں استقامت بخشی اور بعد میں اسلام کو غلبہ عطا فرمایا اور ان مصائب سے نجات بخشی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت