3213 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ، فَيَغِيبُ عَنِّي لَيْلَةً؟ قَالَ: «إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ، وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ شَيْئًا غَيْرَهُ، فَكُلْهُ»
حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں شکار پر تیر چلاتا ہوں، وہ رات بھر مجھ سے غائب رہتا ہے۔ (اگلے دن ملتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا: ''جب تجھے اس میں اپنا تیر لگا ہوا ملے اور اس میں تجھے اس کے سوا کچھ اور نہ ملے تو کھالے۔''
1۔ بے جان شکار میں اپنا تیر موجود ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسی تیر سے مراہے ۔ چونکہ تیر چلانے وقت تکبیر پڑھی گئی تھی لہٰذا وہ ذبح شدہ کے حکم میں ہے ۔
2۔ تیر کے سوا کچھ اور نہ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ یقین ہو کہ اس کی موت کی کوئی اور وجہ نہیں مثلًا: وہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے تو ممکن ہے تیر سے نہ مرا ہو ڈوبنے سے مرا ہو ۔ اسی طرح اگر کسی درندے کے کھانے کے ا ثرات ہیں تو ممکن ہے شکار اس درندے سے مرا ہو تیر سے نہ مرا ہو ۔اس لیے ایسے مشکوک شکار سے پرہیز کیا جائے۔