فهرس الكتاب

الصفحة 3889 من 4341

کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل

باب: بادل اور بارش دیکھ کر کون سی دعا پڑھے؟

3889 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى سَحَابًا مُقْبِلًا مِنْ أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ، تَرَكَ مَا هُوَ فِيهِ وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ، حَتَّى يَسْتَقْبِلَهُ، فَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ بِهِ» ، فَإِنْ أَمْطَرَ قَالَ: «اللَّهُمَّ سَيْبًا نَافِعًا» مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، وَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يُمْطِرْ حَمِدَ اللَّهَ عَلَى ذَلِكَ

ام المومنین حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے، نبی ﷺ جب کسی افق سے بادل آتا دیکھتے تو جس کام میں بھی مژغول ہوتے، خواہ نماز ہی میں کیوں نہ ہوتے، اسے چھوڑ کر بادل کی طرف متوجہ ہو جاتے اور فرماتے: (اللهم! انا نعوذبك من شر ارسل به) یا اللہ! ہم اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں جو کچھ دے کر یہ (بادل) بھیجا گیا ہے۔ اگر بارش شروع ہو جاتی تو دوبار یا تین بار فرماتے: (اللهم! صيبا نافعا) یا اللہ! اس بارش کو فائدہ مند بنا دے۔ اگر بارش نہ ہوتی اور اللہ تعالیی بادل کو ہٹا دیتا تو آپ اللہ کا شکر کرتے۔

1۔بارش اللہ کی ر حمت ہے لیکن اللہ کا عذاب بھی ہوسکتی ہے۔ اس لئے بادل دیکھ کر اللہ کی رحمت کی اُمید کے ساتھ ساتھ اس کے عذاب سے پناہ بھی مانگنی چاہیے۔2۔بارش انسان کےلئے انتہائی ضروری ہونے کے باجود اس میں نقصان کا پہلو بھی موجود ہے۔ اس لئے بارش کے نفع مند ہونے کی دعا کرنا ضروری ہے۔2۔بادل کا برسے بغیر چھٹ جانا اس لئے اللہ کا انعام ہے۔کہ اس کے عذاب ہونے کا خطرہ ٹل گیا4۔ بندے کوہر حال میں اللہ سے امید کے ساتھ ساتھ اللہ کا خوف بھی رکھنا چاہیے اور ان مواقع پر یہ عایئں پڑھنے کاالتزام کرنا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت