3059 حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ، إِلَى اللَّيْلِ»
حضرت عائشہ اور عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے طواف زیارت رات تک مؤخر فرمایا۔
1۔علامہ البانیؒ نے اس حدیث کو شاذ قراردیا ہے۔شاذ کا مطلب ہے کہ یہ حدیث زیادہ قوی حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سےقابل ترک ہے۔
2۔امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو تعلیقًا ان الفاظ سے روایت کیا ہے: نبی اکرم ﷺ نے زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا۔ ( صحيح البخاريالحجباب الزيارة يوم النحرقبل حديث:1722ّ) حافظ ابن حجر ؒ نے اس کی یہ توجیہ کی ہےکہ اس سے مراد ایام تشریق کی راتوں میں کعبہ کی زیارت ہے۔دس ذوالحجہ کا طواف نہیں۔وہ دن ہی میں ہوا۔ (فتح الباري:3/716/717)