فهرس الكتاب

الصفحة 1561 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : قبر پر علامت رکھنے کا بیان

1561 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَعْلَمَ قَبْرَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ بِصَخْرَةٍ»

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ کی قبر پر ( اس کے سرہانے) علامت کے طور پر ایک بڑا پتھر رکھا۔

قبر کے سرہانے نشانی کےلئے ایک پتھر لگادینا کافی ہے جس سے معلوم ہو کہ یہ قبر ہے تاکہ کوئی اس پر پائوں رکھ کر نہ گزرے اور کسی دوسری میت کو دفن کرنے کےلئے غلطی سے اس قبر کا کچھ حصہ نہ کھل جائے اس پتھر پر کچھ لکھنا یا کتبہ لگانا منع ہے جیسے کے حدیث (1563) میں آرہا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت