فهرس الكتاب

الصفحة 2559 من 4341

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

باب: جو بظاہر بدکار معلوم ہو( لیکن جرم باقاعدہ ثابت نہ ہو )

2559 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ فُلَانَةَ فَقَدْ ظَهَرَ مِنْهَا الرِّيبَةُ فِي مَنْطِقِهَا وَهَيْئَتِهَا وَمَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو گواہی قائم ہوئے بغیر رجم کرتا تو فلاں عورت کو ضرور رجم کر دیتا۔ اس کی بات چیت، چال ڈھال اور اس کے پاس آنے جانے والوں کی وجہ سے وہ نظاہر مشکوک نظر آتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت