فهرس الكتاب

الصفحة 2560 من 4341

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

باب: جو بظاہر بدکار معلوم ہو( لیکن جرم باقاعدہ ثابت نہ ہو )

2560 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ شَدَّادٍ أَهِيَ الَّتِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ

حضرت قاسم ؓ (بن محمد بن ابی بکر ؓ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے لعان کرنے والے مرد اور عورت کا ذکر کیا تو ابن شداد نے کہا: کیا یہ وہی عورت تھی جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: اگر میں کسی کو بغیر گواہی کے سنگسار کرتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا؟ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا: (نہیں) وہ تو علانیہ فحش حرکات کرتی تھی۔

(1) سنگسار کرنا سخت ترین سزائے موت ہےلہذایہ سزا اسوقت تک نہیں دی جاسکتی جب تک جرم کا ارتکاب بغیر کسی شک شبہ کے ثابت نہ ہوجائے۔

(2) جرم کے ثبوت کے لیے چرم چشم دید مردگوہوں ہونا ضروری ہے یا مجرم خود اعتراف کرلے یا دیگر قرآن سے اس کا ثبوت مل جائےتب اسے زنا کی سزادی جاسکتی ہے۔

(3) مشکوک قردار کے افراد تنبیہ کی جاسکتی ہے یامناسب تعزیر لگائی جاسکتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت