فهرس الكتاب

الصفحة 2803 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: کون کون سی موت سے شہادت کا درجہ ملنے کی امید ہے

2803 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِهِ إِنْ كُنَّا لَنَرْجُو أَنْ تَكُونَ وَفَاتُهُ قَتْلَ شَهَادَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْمَطْعُونُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهَادَةٌ يَعْنِي الْحَامِلَ وَالْغَرِقُ وَالْحَرِقُ وَالْمَجْنُوبُ يَعْنِي ذَاتَ الْجَنْبِ شَهَادَةٌ

حضرت جابر بن عتیک ؓ سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہوئے تو نبیﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ گھروالوں میں سے کسی نے کہا: ہمیں تو امید تھی کہ وہ اللہ کی راہ میں قتل ہوکر شہادت کی موت پائیں گے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: (اگر صرف میدان جنگ میں مرنا ہی شہادت ہے) تب تومیری امت کے شہید بہت تھوڑے ہوں گے۔اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے۔ طاعون سے مرنا بھی شہادت ہے اور جو عورت حمل کے حالت میں فوت ہو جائے وہ بھی شہید ہے ۔ ڈوب کر مرنے والا، جل کر مرنے والا اور ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت