فهرس الكتاب

الصفحة 1442 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : بیمار کی عیادت کرنے والے کے ثواب کا بیان

1442 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَتَى أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، عَائِدًا، مَشَى فِي خَرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ، فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ، فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً، صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً، صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ»

علی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے فرمایا: ''جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پاس عیادت کے لیے آتا ہے تو وہ مریض کے پاس آکر بیٹھنے تک جنت کے پھل چنتا آتا ہے۔ جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو اس پر رحمت سایہ فگن ہو جاتی ہے۔ اگر ( عیادت) صبح کے وقت ہو تو شام تک ستر ہزار فرشتے اسے دعائیں دیتے رہتے ہیں اور اگر شام کا وقت ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اسے دعائیں دیتے رہتے ہیں۔ ''

1۔مسلمان بھائی کی عیادت اتنا ثواب کا کام ہے۔کے اس مقصد کے لئے اتنا ثواب کا کام ہے کہ اس مقصد کےلئے چلنا جنت کے باغ میں چلنے اور جنت کے پھل چننے کے برابر ہے۔اتنے زیادہ ثواب کے عمل کی وجہ سے امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمادے گا۔2۔عیادت کے لئے مریض کے پاس بیٹھنا اللہ کی رحمت کا باعث ہے۔3۔فرشتوں کارحمت کی دعا کرنا بھی اس شخص کے بلند مقام کو ظاہر کرتا ہے۔اور اس میں اللہ کی رحمت کی خوشخبری ہے کیونکہ فرشتے اللہ کے حکم ہی سے کسی کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت