فهرس الكتاب

الصفحة 2505 من 4341

کتاب: گم شدہ چیز ملنے سے متعلق احکام ومسائل

باب: گری پڑی چیز کا بیان

2505 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَيْ عَدْلٍ ثُمَّ لَا يُغَيِّرْهُ وَلَا يَكْتُمْ فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ

حضرت عیاض بن حمار ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو کسی کی گم شدہ چیز ملے تو اسے چاہیے کہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے۔ پھر اس میں تبدیلی نہ کرے اور نہ اسے چھپائے۔ بعد ازاں اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ (مالک) اس کا زیادہ حق دار ہے ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے، دے دیتا ہے۔

1۔ گواہ بنانے کافائدہ یہ ہے کہ بعد میں کوئی شخص آکر یہ دعوی نہ کرے کہ یہ چیز تومیری ہے لیکن اس میں خیانت کی گئی ہے مثلًا: وہ تھیلی کی علامات پوری بتا دیتا ہے اور جب اسے وہ تھیلی دی جاتی ہے تو وہ کہتاہے کہ اس میں سے کچھ رقم نکال لی گئی ہے تو گواہ اس کی تردید کریں گے کہ رقم اتنی ہی تھی ۔

2۔ وہ اللہ کا مال ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس شخص کو یہ مل دیے دیا ہے اب ( ایک سال کےبعد) اس کےلیے اس کا استعمال جائز ہوگیاہے ۔

3۔ اسلام میں دیانت داری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ گم شدہ چیز مالک کو واپس کرنا دیانت داری کا مظہر ہے ۔اس میں دوسرے کی خیر خواہی بھی ہے اور حرام یامشکوک رزق سے اجتناب بھی ۔ یہ سب صفات ایک مومن میں ہونا ضرور ی ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت