701 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالُوا حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا
سیدنا ابو برزہ اسلمی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز کو دیر سے پڑھنا پسند کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا ناپسند فرماتے تھے۔
1۔عشاء کی نماز سے پہلے سوجانے سے خطرہ ہے کہ نماز کے لیے آنکھ نہ کھلےاور نماز فوت ہوجائے یاآنکھ کھلے تو سستی کا غلبہ ہو جس کی وجہ سے عشاءکی نماز توجہ اور دل جمعی کے ساتھ نہ پڑھی جاسکے۔اس لیے نماز پڑھ کر سونا چاہیے۔
2۔ عشاء کے بعد باتیں کرنا بھی اس لیے نامناسب ہے کہ اس کی وجہ سے نماز فجر کے لیے اٹھنے میں تاخیر ہوجانے کا خطرہ ہے البتہ کوئی ضروری بات چیت یا علمی مسائل کابیان اور وعظ ونصیحت جائز ہے۔ ( صحیح البخاری العلم باب العلم والعظمة بااليل وباب السمر في العلم حديث:115 116)
تاہم خیال رکھنا چاہیے کہ اس کا سلسلہ زیادہ طویل نہ ہوجائے تاکہ فجر کی نماز بروقت ادا کی جاسکے۔بنا بریں دینی وتبلیغی جلسوں کا رات گئے تک جاری رہنا شرعًامحل نظر ہے۔اس عام رواج کو بدلنے کی ضرورت ہے۔