3514 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ خَالِدَةَ بِنْتَ أَنَسٍ أُمَّ بَنِي حَزْمٍ السَّاعِدِيَّةَ، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ الرُّقَى، فَأَمَرَهَا بِهَا»
حضرت ابو بکر بن محمد ؓ سے روایت ہے ، کہ حضرت خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ ؓا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو کچھ دم سنائے ( اور دریافت کیا کہ یہ جائز ہیں یہ نہیں ؟ ) نبی ﷺ نے انہیں ان کے ساتھ دم کرنے کا حکم دیا ۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تھا ''اپنے دم میرے سامنے پیش کرو دم کرنے میں کوئی حرج نہیں، جب تک اس (کے الفاظ) میں شرک نہ ہو۔'' (صحیح مسلم السلام باب لاباس بالرقی مالم یکن فیہ شرک حدیث 2200)