فهرس الكتاب

الصفحة 1072 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: سفر کے دوران میں نفل نماز

1072 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنْ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ فَقَالَ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ السَّفَرِ فَكُنَّا نُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا وَكُنَّا نُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے حضر کی نماز بھی مقرر فرمائی اور سفر کی نماز بھی۔ (فرض نماز کا تعین واضح فرمایا) ہم لوگ حضر میں فرض سے پہلے بھی ( سنت) نماز پڑھتے تھے اور فرض کے بعد بھی اور ( اسی طرح) ہم لوگ سفر میں بھی فرض سے پہلے اور فرض کے بعد (سنت ) نماز پڑھتے تھے۔

اس سے معلوم ہوا کہ سفر میں بھی سنتیں پڑھی جاسکتی ہیں۔اگر کوئی پڑھنا چاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت