1982 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَأَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُسَرِّبُ إِلَيَّ صَوَاحِبَاتِي يُلَاعِبْنَنِي»
حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:میں اس وقت بھی گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آ چکی تھی۔ رسول اللہ ﷺ میری سہیلیوں کو میرے پاس بھیج دیتے تھے اور وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔
1۔لڑکیوں کا گڑیوں کے ساتھ کھیلنا جائز ہے ۔ 2 بچوں کو جائز کھیل کھیلنے کا موقع دینا چاہیے ۔