3666 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَسْعَيَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ وَقَالَ إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ
حضرت یعلی (بن مرہ) عامری ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا:حضرت حسن اور حضرت حسین ؓمادوڑے دوڑے نبی ﷺ کے پاس آئے ۔آپ نے انہیں سینے سے لگایا لیا اور فرمایا: اولاد بخل اور بزدلی کا باعث ہے۔
۱۔ اپنے بچوں سے پیار اور شفقت کا اظہار ان کے دل میں بزرگوں سے محبت کا باعث ہے۔
۲۔ جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا موقع ہو تو انسان بعض اوقات سوچتا ہے کہ یہ پیسے بچا لیے جائیں ، اولاد کے کام آئیں گے۔ اس جذبے پر قابو پانا مشکل ہے ، تاہم کوشش کرنی چاہیے کہ اولاد سے محبت کا یہ جذبہ ایک حد تاک رہے تاکہ انسان بخیل نہ بن جائے۔
۳۔ جب اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع ہو تو خیال آتا ہےکہ اگر میں شہید ہو گیا تو بچوں کا کیا بنے گا؟اس طرح دل میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے۔
۴۔ اولاد سے محبت کے جذبات کو شریعت کے احکام کے ماتحت رکھنا چاہیے۔