فهرس الكتاب

الصفحة 4272 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: قبر کا اٰور جسم کے گل سڑ جانے کا بیان

4272 حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ حَفْصٍ الْأُبُلِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ مُثِّلَتْ الشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا فَيَجْلِسُ يَمْسَحُ عَيْنَيْهِ وَيَقُولُ دَعُونِي أُصَلِّي

حضرت جا بر ؓ سے روایت ہے ۔ نبیﷺ نے فر مایا جب میت قبر میں پہنچتی ہے ۔ تو اسے سورج ڈوبتا نظر آ تا ہے ۔وہ آ نکھیں ملتا ہو ا اٹھا بیٹھتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ مجھے چھوڑو نماز پڑ ھ لینے دو ۔

1۔قبر میں سورج غروب ہونے کا منظر بھی ایک آزمائش ہے جس سے سچے مومن کی اور نام نہاد مسلمان کی پہچان ہوجاتی ہے۔2۔زندگی میں پابندی کے ساتھ نماز پڑھنا نہایت ضروری ہے ورنہ قبر کے امتحان میں کامیاب ہونا مشکل ہے۔3۔آنکھیں ملنے کی وجہ یہ ہے کہ اسے محسوس ہوتا ہے۔کہ وہ غافل ہوکر سویا رہا جس کی وجہ سے عصر کی نماز میں دیر ہوگئی اس لئے وہ چاہتا ہے کہ فورا نماز پڑھ لے تاکہ مذید تاخیر نہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت